رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر افطاری کا دلچسپ واقعہ


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے کئی سالوں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ اس لیے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات کو اچھی طرح جانتے تھے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ رکھتے تو عام طور پر دودھ اور کھجور سے افطار فرماتے۔ اور رات کے اوائل میں سحری کے لیے کچھ سادہ سا کھانا لے جا تے ۔


ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئیے افطاری کا اہتمام کیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے دودھ اور کھجور تیار رکھی۔ البتہ افطاری کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کے لیے حاضر نہیں ہوئے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ شاید آپ ؐنے کسی کی دعوت قبول کر لی ہے اور کہیں اور روزہ افطار کر لیا ہے۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خود کھانا کھایا اور سونے کا فیصلہ کیا۔


جیسے ہی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سونے کے لئیے لیٹے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک صحابی کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے صحابی سے احتیاط سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھا چکے ہیں؟


’’نہیں،‘‘ صحابی نے نرمی سے جواب دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ضروری کام نمٹنا تھا۔ انہیں اتنی تاخیر ہو گئی کہ اب انہیں افطاری میں بھی بہت دیر ہو گئی ہے ۔


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بہت شرم آئی! کوئی کھانا باقی نہیں بچا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا مانگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر سکتے۔ دودھ بھی نہیں تھا۔ انس انتظار کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صورتحال بتانے کے لیے خود کو تیار کرتے رہے ۔


دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی محسوس کر لیا تھا کہ انس ان کو کھانا پیش کرنے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے ۔ یہ بالکل حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا برتاؤ نہیں تھا ۔


اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر سمجھ لیا کہ گھر میں کھانا یا دودھ نہیں ہے، انس رضی اللہ عنہ نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔


نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیا وہ قابل ذکر تھا۔آپ ؐ نے ایسا برتاؤ کیا جیسے آپ ؐ کو بلکل بھی بھوک نہ ہو اور وہ خوش مزاج چہرے کے ساتھ رات کا کھانا کھائے بغیر تشریف لے گئے ۔


انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہیں کیا۔


اخلاقی سبق :



1) دوسرے لوگوں کے جذبات پر غور کریں۔ اگر ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو انہیں شرمندہ نہ کریں۔



2) صبر کرو۔ دوسروں کی غلطیوں کو برداشت کرنا سیکھو ۔